لکھنؤ ، 17 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یوپی کے سیاسی معرکے میں بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے ساتھ مہاگٹھ بندھن بنا کرمیدان میں اترے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اپنے والد ملائم سنگھ یادو کی سیٹ اعظم گڑھ سے لوک سبھا انتخابات لڑ سکتے ہیں۔اکھلیش نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ لوک سبھا الیکشن لڑیں گے،حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر اعظم گڑھ کی عوام چاہے گی تو میں وہاں سے انتخابات لڑوں گا۔اکھلیش نے یہ بھی کہا کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں نہیں ہیں اور وہ پی ایم بنانے والے ہیں۔
بات چیت میں اکھلیش نے اشاروں اشاروں میں کہا ہے کہ وہ اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹ منتخب کر سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اکھلیش نے کہا کہ اعظم گڑھ سوشلسٹوں کا گھر ہے اور اگر وہاں کی عوام چاہے گی تو وہ وہاں سے الیکشن لڑیں گے۔آپ کو بتا دیں کہ اعظم گڑھ سے ابھی سماجوادی پارٹی کے سرپرست اور اکھلیش یادو کے والد ملائم سنگھ یادو ممبر پارلیمنٹ ہیں۔اکھلیش نے کہا مودی کو ہٹانے کا سوال ہے کیونکہ بی جے پی ملک کا نقصان کر رہی ہے۔اکھلیش یادو نے کہاکہ بی جے پی کی حکومت آئی تو ان کا گھر خالی کروا لیا گیا۔حکام سے میرے گھر میں لگی ٹونٹی تک نکلوا لی گئی،اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایس پی کی حکومت آئے گی تو وہ انہیں حکام سے چلم نکلوائیں گے۔
اپنے چھوٹے بھائی کی بیوی کو ٹکٹ نہ دئے جانے کے سوال پر سابق وزیر اعلی نے کہا کہ اتحاد میں سماج وادی پارٹی کے پاس کم سیٹیں آئی ہیں،ایسے میں وہ سب کو سیٹ نہیں دے سکتے تھے۔اکھلیش نے کہا کہ ان کی پارٹی پر کنبہ پروری کا بھی الزام لگتا ہے، تو انہوں نے اپنے خاندان کے اراکین کو ٹکٹ نہیں دیا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ انہوں نے طے کیا ہے کہ وہ کسے وزیر اعظم بنائیں گے،اگرچہ وزیر اعظم کون ہوگا اس پر انہوں نے کہا کہ وہ نام نہیں بتائیں گے بس انہوں نے طے کر لیا ہے۔اکھلیش نے کہا کہ وہ صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم نیا ہوگا اور یوپی سے ہوگا۔
اکھلیش یادو سابق کابینہ وزیر اعظم خاں کے اردو گیٹ گرائے جانے کادفاع کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی جگہ تجاوزات ہے،سی ایم رہائش میں بھی تجاوز ہے،طویل فہرست بنی ہے تجاوز کی،ان کی پارٹی کے سابق لیڈر بکل نواب جو پہلے سیوئی کھاتے تھے اب ہنومان کے آدمی ہو گئے ہیں،ان کے بھی بہت سے تجاوزات ہیں، اس لئے وہ بی جے پی کی پناہ میں چلے گئے۔